البقرة 2:126 واذ قال ابراهيم رب اجعل هاذا بلدا امنا وارزق اهله من الثمرات من امن منهم بالله واليوم الاخر قال ومن كفر فامتعه قليلا ثم اضطره الى عذاب النار وبيس المصير ١٢٦
وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهٖمُ
رَبِّ
اجْعَلْ
هٰذَا
بَلَدًا
اٰمِنًا
وَّارْزُقْ
اَهْلَهٗ
مِنَ
الثَّمَرٰتِ
مَنْ
اٰمَنَ
مِنْهُمْ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ ؕ
قَالَ
وَمَنْ
كَفَرَ
فَاُمَتِّعُهٗ
قَلِیْلًا
ثُمَّ
اَضْطَرُّهٗۤ
اِلٰی
عَذَابِ
النَّارِ ؕ
وَبِئْسَ
الْمَصِیْرُ
۟
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیا
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭…
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور ح