البقرة 2:14 واذا لقوا الذين امنوا قالوا امنا واذا خلوا الى شياطينهم قالوا انا معكم انما نحن مستهزيون ١٤
وَاِذَا
لَقُوا
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
قَالُوْۤا
اٰمَنَّا ۖۚ
وَاِذَا
خَلَوْا
اِلٰی
شَیٰطِیْنِهِمْ ۙ
قَالُوْۤا
اِنَّا
مَعَكُمْ ۙ
اِنَّمَا
نَحْنُ
مُسْتَهْزِءُوْنَ
۟
Jab yeh ehle iman se milte hain, to kehte hain ke hum iman laye hain aur jab alaidagi (alone/privy) mein apne shaytano se milte hain, to kehte hain ke asal mein to hum tumhare saath hain aur in logon se mehaz mazaaq kar rahey hain
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فریب زدہ لوگ ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ یہ بدباطن مسلمانوں کے پاس آ کر اپنی ایمان دوستی اور خیر خواہی ظاہر کر کے انہیں دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ مال و جان کا بچاؤ بھی ہو جائے، بھلائی اور غنیمت کے مال میں حصہ بھی قائم ہو جائے۔ اور جب اپنے والوں میں ہوتے ہیں تو ان ہی کی سی کہنے لگتے ہیں۔ «خَلَوْا» کے معنی
فریب زدہ لوگ ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ یہ بدباطن مسلمانوں کے پاس آ کر اپنی ایمان دوستی اور خیر خواہی ظاہر کر کے انہیں دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ مال و جان ک