البقرة 2:142 ۞ سيقول السفهاء من الناس ما ولاهم عن قبلتهم التي كانوا عليها قل لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء الى صراط مستقيم ١٤٢
سَیَقُوْلُ
السُّفَهَآءُ
مِنَ
النَّاسِ
مَا
وَلّٰىهُمْ
عَنْ
قِبْلَتِهِمُ
الَّتِیْ
كَانُوْا
عَلَیْهَا ؕ
قُلْ
لِّلّٰهِ
الْمَشْرِقُ
وَالْمَغْرِبُ ؕ
یَهْدِیْ
مَنْ
یَّشَآءُ
اِلٰی
صِرَاطٍ
مُّسْتَقِیْمٍ
۟
اب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں براء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن خود آپ کی چاہت یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ شریف ہو۔ چنانچہ اب حکم آ گیا اور آپ ص
باب…
بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں براء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ عل