البقرة 2:150 ومن حيث خرجت فول وجهك شطر المسجد الحرام وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره ليلا يكون للناس عليكم حجة الا الذين ظلموا منهم فلا تخشوهم واخشوني ولاتم نعمتي عليكم ولعلكم تهتدون ١٥٠
وَمِنْ
حَیْثُ
خَرَجْتَ
فَوَلِّ
وَجْهَكَ
شَطْرَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ ؕ
وَحَیْثُ
مَا
كُنْتُمْ
فَوَلُّوْا
وُجُوْهَكُمْ
شَطْرَهٗ ۙ
لِئَلَّا
یَكُوْنَ
لِلنَّاسِ
عَلَیْكُمْ
حُجَّةٌ ۙۗ
اِلَّا
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
مِنْهُمْ ۗ
فَلَا
تَخْشَوْهُمْ
وَاخْشَوْنِیْ ۗ
وَلِاُتِمَّ
نِعْمَتِیْ
عَلَیْكُمْ
وَلَعَلَّكُمْ
تَهْتَدُوْنَ
۟ۙۛ
اور جہاں سے تو نکلے منہ کر اپنا مسجدالحرام کی طرف اور جس جگہ تم ہوا کرو منہ کرو اسی کی طرف 1 تاکہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جگھڑنے کا موقع مگر جو ان میں بے انصاف ہیں سو ان سے [یعنی انکے اعتراضوں سے] مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو 2 اور اس واسطے کہ کامل کروں تم پر فضل اپنا اور تاکہ تم پاؤ راہ سیدھی 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تین بار نزول حکم ٭٭…
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم
تین بار نزول حکم ٭٭…
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی