البقرة 2:168 يا ايها الناس كلوا مما في الارض حلالا طيبا ولا تتبعوا خطوات الشيطان انه لكم عدو مبين ١٦٨
یٰۤاَیُّهَا
النَّاسُ
كُلُوْا
مِمَّا
فِی
الْاَرْضِ
حَلٰلًا
طَیِّبًا ۖؗ
وَّلَا
تَتَّبِعُوْا
خُطُوٰتِ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اِنَّهٗ
لَكُمْ
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزه چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راه پر نہ چلو1 ، وه تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
روزی دینے والا کون؟ ٭٭…
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں
روزی دینے والا کون؟ ٭٭…
اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان