البقرة 2:17 مثلهم كمثل الذي استوقد نارا فلما اضاءت ما حوله ذهب الله بنورهم وتركهم في ظلمات لا يبصرون ١٧
مَثَلُهُمْ
كَمَثَلِ
الَّذِی
اسْتَوْقَدَ
نَارًا ۚ
فَلَمَّاۤ
اَضَآءَتْ
مَا
حَوْلَهٗ
ذَهَبَ
اللّٰهُ
بِنُوْرِهِمْ
وَتَرَكَهُمْ
فِیْ
ظُلُمٰتٍ
لَّا
یُبْصِرُوْنَ
۟
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی۔ پھر جب اس آگ نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور چھوڑ دیا ان کو ان اندھیروں کے اندر کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شک، کفر اور نفاق کیا ہے؟ ٭٭…
مثال کو عربی میں «مثیل» بھی کہتے ہیں اس کی جمع «امثال» آتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے: «وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ» [29-العنكبوت:43] یعنی ” یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جنہیں صرف عالم ہی سمجھتے ہیں “۔ ا
شک، کفر اور نفاق کیا ہے؟ ٭٭…
مثال کو عربی میں «مثیل» بھی کہتے ہیں اس کی جمع «امثال» آتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے: «وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِ