البقرة 2:171 ومثل الذين كفروا كمثل الذي ينعق بما لا يسمع الا دعاء ونداء صم بكم عمي فهم لا يعقلون ١٧١
وَمَثَلُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
كَمَثَلِ
الَّذِیْ
یَنْعِقُ
بِمَا
لَا
یَسْمَعُ
اِلَّا
دُعَآءً
وَّنِدَآءً ؕ
صُمٌّۢ
بُكْمٌ
عُمْیٌ
فَهُمْ
لَا
یَعْقِلُوْنَ
۟
کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭…
یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ
گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭…
یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو