البقرة 2:182 فمن خاف من موص جنفا او اثما فاصلح بينهم فلا اثم عليه ان الله غفور رحيم ١٨٢
فَمَنْ
خَافَ
مِنْ
مُّوْصٍ
جَنَفًا
اَوْ
اِثْمًا
فَاَصْلَحَ
بَیْنَهُمْ
فَلَاۤ
اِثْمَ
عَلَیْهِ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟۠
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وصیت کی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے
وصیت کی وضاحت ٭٭…
اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے