البقرة 2:189 ۞ يسالونك عن الاهلة قل هي مواقيت للناس والحج وليس البر بان تاتوا البيوت من ظهورها ولاكن البر من اتقى واتوا البيوت من ابوابها واتقوا الله لعلكم تفلحون ١٨٩
یَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ
الْاَهِلَّةِ ؕ
قُلْ
هِیَ
مَوَاقِیْتُ
لِلنَّاسِ
وَالْحَجِّ ؕ
وَلَیْسَ
الْبِرُّ
بِاَنْ
تَاْتُوا
الْبُیُوْتَ
مِنْ
ظُهُوْرِهَا
وَلٰكِنَّ
الْبِرَّ
مَنِ
اتَّقٰی ۚ
وَاْتُوا
الْبُیُوْتَ
مِنْ
اَبْوَابِهَا ۪
وَاتَّقُوا
اللّٰهَ
لَعَلَّكُمْ
تُفْلِحُوْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) یہ آپ ﷺ سے پوچھ رہے ہیں چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے بارے میں کہہ دیجیے یہ لوگوں کے لیے اوقات کا تعینّ ہے اور حج کے لیے ہے اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور گھروں میں داخل ہو ان کے دروازوں سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
چاند اور مہ وسال ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے چاند کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس سے قرض وغیرہ کے وعدوں کی میعاد معلوم ہو جاتی ہے، عورتوں کی عدت کا وقت معلوم ہوتا ہے، حج کا وقت معلوم ہوتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:554/3
چاند اور مہ وسال ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے چاند کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت نازل