البقرة 2:19 او كصيب من السماء فيه ظلمات ورعد وبرق يجعلون اصابعهم في اذانهم من الصواعق حذر الموت والله محيط بالكافرين ١٩
اَوْ
كَصَیِّبٍ
مِّنَ
السَّمَآءِ
فِیْهِ
ظُلُمٰتٌ
وَّرَعْدٌ
وَّبَرْقٌ ۚ
یَجْعَلُوْنَ
اَصَابِعَهُمْ
فِیْۤ
اٰذَانِهِمْ
مِّنَ
الصَّوَاعِقِ
حَذَرَ
الْمَوْتِ ؕ
وَاللّٰهُ
مُحِیْطٌ
بِالْكٰفِرِیْنَ
۟
یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے زور سے مینہ پڑ رہا ہو آسمان سے اس میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی دیتے ہیں انگلیاں اپنے کانوں میں مارے کڑک کے موت کے ڈر سے اور اللہ احاطہ کرنے والا ہے کافروں کا 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقین کی ایک اور پہچان ٭٭…
یہ دوسری مثال ہے جو دوسری قسم کے منافقوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جن پر کبھی حق ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی پھر شک میں پڑ جاتے ہیں تو شک کے وقت ان کی مثال برسات کی سی ہے۔ صیب کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں۔ بعض نے بادل کے معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن زیادہ مشہور معنی ب
منافقین کی ایک اور پہچان ٭٭…
یہ دوسری مثال ہے جو دوسری قسم کے منافقوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جن پر کبھی حق ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی پھر شک