البقرة 2:198 ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم فاذا افضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام واذكروه كما هداكم وان كنتم من قبله لمن الضالين ١٩٨
لَیْسَ
عَلَیْكُمْ
جُنَاحٌ
اَنْ
تَبْتَغُوْا
فَضْلًا
مِّنْ
رَّبِّكُمْ ؕ
فَاِذَاۤ
اَفَضْتُمْ
مِّنْ
عَرَفٰتٍ
فَاذْكُرُوا
اللّٰهَ
عِنْدَ
الْمَشْعَرِ
الْحَرَامِ ۪
وَاذْكُرُوْهُ
كَمَا
هَدٰىكُمْ ۚ
وَاِنْ
كُنْتُمْ
مِّنْ
قَبْلِهٖ
لَمِنَ
الضَّآلِّیْنَ
۟
اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرتے جاوٴ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔1 پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعرِ حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو۔ جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تجارت اور حج ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازار تھے اسلام کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم ایام حج میں تجارت کو گناہ سمجھ کر ڈرے تو انہیں اجازت دی گئی کہ ایام حج میں تجارت کرنا گناہ نہیں، [صحی
تجارت اور حج ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز