البقرة 2:199 ثم افيضوا من حيث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحيم ١٩٩
ثُمَّ
اَفِیْضُوْا
مِنْ
حَیْثُ
اَفَاضَ
النَّاسُ
وَاسْتَغْفِرُوا
اللّٰهَ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں1 اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قریش سے خطاب اور معمول نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٭٭…
«”ثُمَّ“» یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لیے ہے تاکہ ترتیب ہو جائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکے، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات می
قریش سے خطاب اور معمول نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٭٭…
«”ثُمَّ“» یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لیے ہے تاکہ ترتیب ہو جائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہ