البقرة 2:206 واذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالاثم فحسبه جهنم ولبيس المهاد ٢٠٦
وَاِذَا
قِیْلَ
لَهُ
اتَّقِ
اللّٰهَ
اَخَذَتْهُ
الْعِزَّةُ
بِالْاِثْمِ
فَحَسْبُهٗ
جَهَنَّمُ ؕ
وَلَبِئْسَ
الْمِهَادُ
۟
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو آمادہ کرےاس کو غرور گناہ پر سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک برا ٹھکانہ ہے 1
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
منافقوں کا مزید تعارف ٭٭…
غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی معنی مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں ک
منافقوں کا مزید تعارف ٭٭…
غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ