البقرة 2:210 هل ينظرون الا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام والملايكة وقضي الامر والى الله ترجع الامور ٢١٠
هَلْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّاْتِیَهُمُ
اللّٰهُ
فِیْ
ظُلَلٍ
مِّنَ
الْغَمَامِ
وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ
وَقُضِیَ
الْاَمْرُ ؕ
وَاِلَی
اللّٰهِ
تُرْجَعُ
الْاُمُوْرُ
۟۠
(ان ساری نصیحتو ں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہو ں ، تو )کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالاجائے؟1۔۔۔۔آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تذکرہ شفاعت ٭٭…
اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا وَجِيءَ يَوْمَئ
تذکرہ شفاعت ٭٭…
اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے