البقرة 2:214 ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما ياتكم مثل الذين خلوا من قبلكم مستهم الباساء والضراء وزلزلوا حتى يقول الرسول والذين امنوا معه متى نصر الله الا ان نصر الله قريب ٢١٤
اَمْ
حَسِبْتُمْ
اَنْ
تَدْخُلُوا
الْجَنَّةَ
وَلَمَّا
یَاْتِكُمْ
مَّثَلُ
الَّذِیْنَ
خَلَوْا
مِنْ
قَبْلِكُمْ ؕ
مَسَّتْهُمُ
الْبَاْسَآءُ
وَالضَّرَّآءُ
وَزُلْزِلُوْا
حَتّٰی
یَقُوْلَ
الرَّسُوْلُ
وَالَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ
مَتٰی
نَصْرُ
اللّٰهِ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّ
نَصْرَ
اللّٰهِ
قَرِیْبٌ
۟
پھر کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا ، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے ، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرچکا ہے ۔ ان پر سختیاں گزریں ، مصیبتیں آئیں اور مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی (اس وقت انہیں تسلی دی گئی ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں، «بأساء» کے معنی فقیری [تفسیر ابن ابی حاتم:217/2] «وضراء» کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ «وَزُلْزِلُوا» ان پر دشمنوں کا خوف
ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مص