البقرة 2:219 ۞ يسالونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس واثمهما اكبر من نفعهما ويسالونك ماذا ينفقون قل العفو كذالك يبين الله لكم الايات لعلكم تتفكرون ٢١٩
یَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ
الْخَمْرِ
وَالْمَیْسِرِ ؕ
قُلْ
فِیْهِمَاۤ
اِثْمٌ
كَبِیْرٌ
وَّمَنَافِعُ
لِلنَّاسِ ؗ
وَاِثْمُهُمَاۤ
اَكْبَرُ
مِنْ
نَّفْعِهِمَا ؕ
وَیَسْـَٔلُوْنَكَ
مَاذَا
یُنْفِقُوْنَ ؕ۬
قُلِ
الْعَفْوَؕ
كَذٰلِكَ
یُبَیِّنُ
اللّٰهُ
لَكُمُ
الْاٰیٰتِ
لَعَلَّكُمْ
تَتَفَكَّرُوْنَ
۟ۙ
(اے نبی ﷺ !) یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ ان کا کیا حکم ہے ؟) (اے نبی ﷺ ! ان سے) کہہ دیجیے کہ ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے اور یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے : اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حرمت شراب کیوں؟ ٭٭…
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ» [ 2۔ البقرہ: 219 ] ، نازل ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی
حرمت شراب کیوں؟ ٭٭…
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَ