البقرة 2:220 في الدنيا والاخرة ويسالونك عن اليتامى قل اصلاح لهم خير وان تخالطوهم فاخوانكم والله يعلم المفسد من المصلح ولو شاء الله لاعنتكم ان الله عزيز حكيم ٢٢٠
فِی
الدُّنْیَا
وَالْاٰخِرَةِ ؕ
وَیَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ
الْیَتٰمٰی ؕ
قُلْ
اِصْلَاحٌ
لَّهُمْ
خَیْرٌ ؕ
وَاِنْ
تُخَالِطُوْهُمْ
فَاِخْوَانُكُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
یَعْلَمُ
الْمُفْسِدَ
مِنَ
الْمُصْلِحِ ؕ
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
لَاَعْنَتَكُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو)۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حرمت شراب کیوں؟ ٭٭…
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ» [ 2۔ البقرہ: 219 ] ، نازل ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی
حرمت شراب کیوں؟ ٭٭…
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَ