البقرة 2:240 والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج فان خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في انفسهن من معروف والله عزيز حكيم ٢٤٠
وَالَّذِیْنَ
یُتَوَفَّوْنَ
مِنْكُمْ
وَیَذَرُوْنَ
اَزْوَاجًا ۖۚ
وَّصِیَّةً
لِّاَزْوَاجِهِمْ
مَّتَاعًا
اِلَی
الْحَوْلِ
غَیْرَ
اِخْرَاجٍ ۚ
فَاِنْ
خَرَجْنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْكُمْ
فِیْ
مَا
فَعَلْنَ
فِیْۤ
اَنْفُسِهِنَّ
مِنْ
مَّعْرُوْفٍ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بیوگان کے قیام کا مسئلہ ٭٭…
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہو چکی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے تو پھر آپ رضی اللہ عنہ اسے قرآن کریم میں کیو
بیوگان کے قیام کا مسئلہ ٭٭…
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہو چکی ہے، صحیح بخاری شریف