البقرة 2:243 ۞ الم تر الى الذين خرجوا من ديارهم وهم الوف حذر الموت فقال لهم الله موتوا ثم احياهم ان الله لذو فضل على الناس ولاكن اكثر الناس لا يشكرون ٢٤٣
اَلَمْ
تَرَ
اِلَی
الَّذِیْنَ
خَرَجُوْا
مِنْ
دِیَارِهِمْ
وَهُمْ
اُلُوْفٌ
حَذَرَ
الْمَوْتِ ۪
فَقَالَ
لَهُمُ
اللّٰهُ
مُوْتُوْا ۫
ثُمَّ
اَحْیَاهُمْ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَذُوْ
فَضْلٍ
عَلَی
النَّاسِ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَشْكُرُوْنَ
۟
تم نے ان لوگوں کے حال پر کچھ غور کیا ، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا : مرجاؤ۔ اور پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑافضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موت اور زندگی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے، بعض تو ہزار کہتے ہیں، بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں، بعض تیس ہزار سے کچھ اوپر بتاتے ہیں، یہ لوگ ذاوردان نامی بستی کے تھے جو واسط کی طرف ہے، بعض کہتے ہیں اس بستی کا نام اذرعات تھا، یہ لوگ طاعون ک
موت اور زندگی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے، بعض تو ہزار کہتے ہیں، بعض چالیس ہزار بت