البقرة 2:246 الم تر الى الملا من بني اسراييل من بعد موسى اذ قالوا لنبي لهم ابعث لنا ملكا نقاتل في سبيل الله قال هل عسيتم ان كتب عليكم القتال الا تقاتلوا قالوا وما لنا الا نقاتل في سبيل الله وقد اخرجنا من ديارنا وابناينا فلما كتب عليهم القتال تولوا الا قليلا منهم والله عليم بالظالمين ٢٤٦
اَلَمْ
تَرَ
اِلَی
الْمَلَاِ
مِنْ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
مِنْ
بَعْدِ
مُوْسٰی ۘ
اِذْ
قَالُوْا
لِنَبِیٍّ
لَّهُمُ
ابْعَثْ
لَنَا
مَلِكًا
نُّقَاتِلْ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
قَالَ
هَلْ
عَسَیْتُمْ
اِنْ
كُتِبَ
عَلَیْكُمُ
الْقِتَالُ
اَلَّا
تُقَاتِلُوْا ؕ
قَالُوْا
وَمَا
لَنَاۤ
اَلَّا
نُقَاتِلَ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
وَقَدْ
اُخْرِجْنَا
مِنْ
دِیَارِنَا
وَاَبْنَآىِٕنَا ؕ
فَلَمَّا
كُتِبَ
عَلَیْهِمُ
الْقِتَالُ
تَوَلَّوْا
اِلَّا
قَلِیْلًا
مِّنْهُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلِیْمٌ
بِالظّٰلِمِیْنَ
۟
بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل پر ایک اور احسان ٭٭…
جس نبی علیہ السلام کا یہاں ذِکر ہے ان کا نام قتادہ رحمہ اللہ نے یوشع بن نون بن افرایم بن یوسف بن یعقوب علیہ السلام بتایا ہے، لیکن یہ قول ٹھیک معلوم نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ واقعہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا داؤد علیہ السلام کے زمانے کا ہے، جیسا کہ صراحتاً وارد ہوا ہے، او
بنی اسرائیل پر ایک اور احسان ٭٭…
جس نبی علیہ السلام کا یہاں ذِکر ہے ان کا نام قتادہ رحمہ اللہ نے یوشع بن نون بن افرایم بن یوسف بن یعقوب علیہ السلام بتای