البقرة 2:25 وبشر الذين امنوا وعملوا الصالحات ان لهم جنات تجري من تحتها الانهار كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هاذا الذي رزقنا من قبل واتوا به متشابها ولهم فيها ازواج مطهرة وهم فيها خالدون ٢٥
وَبَشِّرِ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
اَنَّ
لَهُمْ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ ؕ
كُلَّمَا
رُزِقُوْا
مِنْهَا
مِنْ
ثَمَرَةٍ
رِّزْقًا ۙ
قَالُوْا
هٰذَا
الَّذِیْ
رُزِقْنَا
مِنْ
قَبْلُ ۙ
وَاُتُوْا
بِهٖ
مُتَشَابِهًا ؕ
وَلَهُمْ
فِیْهَاۤ
اَزْوَاجٌ
مُّطَهَّرَةٌ ۙۗ
وَّهُمْ
فِیْهَا
خٰلِدُوْنَ
۟
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اعمال وجہ بشارت ٭٭…
چونکہ پہلے کافروں اور دشمنان دین کی سزا عذاب اور رسوائی کا ذکر ہوا تھا اس لیے یہاں ایمانداروں اور نیک صالح لوگوں کی جزا ثواب اور سرخروئی کا بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے مثانی ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں جو صحیح تر قول بھی ہے کہ اس میں ہر مضمون تقابلی جائزہ کے ساتھ ہوا ہے اس کا مفصل بیا
اعمال وجہ بشارت ٭٭…
چونکہ پہلے کافروں اور دشمنان دین کی سزا عذاب اور رسوائی کا ذکر ہوا تھا اس لیے یہاں ایمانداروں اور نیک صالح لوگوں کی جزا ثواب اور سرخ