البقرة 2:256 لا اكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي فمن يكفر بالطاغوت ويومن بالله فقد استمسك بالعروة الوثقى لا انفصام لها والله سميع عليم ٢٥٦
لَاۤ
اِكْرَاهَ
فِی
الدِّیْنِ ۙ۫
قَدْ
تَّبَیَّنَ
الرُّشْدُ
مِنَ
الْغَیِّ ۚ
فَمَنْ
یَّكْفُرْ
بِالطَّاغُوْتِ
وَیُؤْمِنْ
بِاللّٰهِ
فَقَدِ
اسْتَمْسَكَ
بِالْعُرْوَةِ
الْوُثْقٰی ۗ
لَا
انْفِصَامَ
لَهَا ؕ
وَاللّٰهُ
سَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ
۟
دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے1 ، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جبر اور دعوت اسلام ٭٭…
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چکے ہیں پھر کسی اور جبر اور زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جسے اللہ رب العزت ہدایت دے گا، جس کا سینہ کھلا ہوا دل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خودبخو
جبر اور دعوت اسلام ٭٭…
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چک