البقرة 2:270 وما انفقتم من نفقة او نذرتم من نذر فان الله يعلمه وما للظالمين من انصار ٢٧٠
وَمَاۤ
اَنْفَقْتُمْ
مِّنْ
نَّفَقَةٍ
اَوْ
نَذَرْتُمْ
مِّنْ
نَّذْرٍ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
یَعْلَمُهٗ ؕ
وَمَا
لِلظّٰلِمِیْنَ
مِنْ
اَنْصَارٍ
۟
تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو1 اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے، اور ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں