البقرة 2:271 ان تبدوا الصدقات فنعما هي وان تخفوها وتوتوها الفقراء فهو خير لكم ويكفر عنكم من سيياتكم والله بما تعملون خبير ٢٧١
اِنْ
تُبْدُوا
الصَّدَقٰتِ
فَنِعِمَّا
هِیَ ۚ
وَاِنْ
تُخْفُوْهَا
وَتُؤْتُوْهَا
الْفُقَرَآءَ
فَهُوَ
خَیْرٌ
لَّكُمْ ؕ
وَیُكَفِّرُ
عَنْكُمْ
مِّنْ
سَیِّاٰتِكُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرٌ
۟
اگر ظاہر کر کے دو خیرات تو کیا اچھی بات اور اگر اس کو چھپاؤ اور فقیروں کو پہنچاؤ تو وہ بہتر ہے تمہارے حق میں اور دور کرے گا کچھ گناہ تمہارے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور
نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں