البقرة 2:277 ان الذين امنوا وعملوا الصالحات واقاموا الصلاة واتوا الزكاة لهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٢٧٧
اِنَّ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَعَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ
وَاَقَامُوا
الصَّلٰوةَ
وَاٰتَوُا
الزَّكٰوةَ
لَهُمْ
اَجْرُهُمْ
عِنْدَ
رَبِّهِمْ ۚ
وَلَا
خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ
وَلَا
هُمْ
یَحْزَنُوْنَ
۟
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کيے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ ادا کی، ان کے ليے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس ان کے ليے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَو
سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و