البقرة 2:283 ۞ وان كنتم على سفر ولم تجدوا كاتبا فرهان مقبوضة فان امن بعضكم بعضا فليود الذي اوتمن امانته وليتق الله ربه ولا تكتموا الشهادة ومن يكتمها فانه اثم قلبه والله بما تعملون عليم ٢٨٣
وَاِنْ
كُنْتُمْ
عَلٰی
سَفَرٍ
وَّلَمْ
تَجِدُوْا
كَاتِبًا
فَرِهٰنٌ
مَّقْبُوْضَةٌ ؕ
فَاِنْ
اَمِنَ
بَعْضُكُمْ
بَعْضًا
فَلْیُؤَدِّ
الَّذِی
اؤْتُمِنَ
اَمَانَتَهٗ
وَلْیَتَّقِ
اللّٰهَ
رَبَّهٗ ؕ
وَلَا
تَكْتُمُوا
الشَّهَادَةَ ؕ
وَمَنْ
یَّكْتُمْهَا
فَاِنَّهٗۤ
اٰثِمٌ
قَلْبُهٗ ؕ
وَاللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
عَلِیْمٌ
۟۠
اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو کوئی شے گروی رکھ لو قبضے میں پھر اگر تم میں سے ایک دوسرے پر اعتماد کرے تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کی امانت واپس کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی کو چھپایا نہ کرو اور جو کوئی گواہی کو چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہوگا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مسئلہ رہن، تحریر اور گواہی ٭٭…
یعنی بحالت سفر اگر ادھار کا لین دین ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے یا ملے مگر قلم و دوات یا کاغذ نہ ہو تو رہن رکھ لیا کرو اور جس چیز کو رہن رکھنا ہو اسے حقدار کے قبضے میں دے دو۔ مقبوضہ کے لفظ سے استدلال کیا گیا ہے کہ رہن جب تک قبضہ میں نہ آ جائے لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ ام
مسئلہ رہن، تحریر اور گواہی ٭٭…
یعنی بحالت سفر اگر ادھار کا لین دین ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے یا ملے مگر قلم و دوات یا کاغذ نہ ہو تو رہن رکھ لیا کرو