البقرة 2:285 امن الرسول بما انزل اليه من ربه والمومنون كل امن بالله وملايكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير ٢٨٥
اٰمَنَ
الرَّسُوْلُ
بِمَاۤ
اُنْزِلَ
اِلَیْهِ
مِنْ
رَّبِّهٖ
وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ
كُلٌّ
اٰمَنَ
بِاللّٰهِ
وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ
وَكُتُبِهٖ
وَرُسُلِهٖ ۫
لَا
نُفَرِّقُ
بَیْنَ
اَحَدٍ
مِّنْ
رُّسُلِهٖ ۫
وَقَالُوْا
سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا ؗۗ
غُفْرَانَكَ
رَبَّنَا
وَاِلَیْكَ
الْمَصِیْرُ
۟
رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔1“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭…
ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [صحیح بخاری:5009:صحیح] مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے
بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭…
ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [ص