البقرة 2:3 الذين يومنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون ٣
الَّذِیْنَ
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْغَیْبِ
وَیُقِیْمُوْنَ
الصَّلٰوةَ
وَمِمَّا
رَزَقْنٰهُمْ
یُنْفِقُوْنَ
۟ۙ
جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں1 اور نماز کو قائم رکھتے ہیں2 اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایمان کی تعریف ٭٭…
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں۔
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایمان کہتے ہیں عمل کو“، ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ ”یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/1]
ایمان کی تعریف ٭٭…
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں۔
ز