البقرة 2:33 قال يا ادم انبيهم باسمايهم فلما انباهم باسمايهم قال الم اقل لكم اني اعلم غيب السماوات والارض واعلم ما تبدون وما كنتم تكتمون ٣٣
قَالَ
یٰۤاٰدَمُ
اَنْۢبِئْهُمْ
بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَنْۢبَاَهُمْ
بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۙ
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكُمْ
اِنِّیْۤ
اَعْلَمُ
غَیْبَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ۙ
وَاَعْلَمُ
مَا
تُبْدُوْنَ
وَمَا
كُنْتُمْ
تَكْتُمُوْنَ
۟
اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم ﴿علیہ السلام﴾ سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آدم علیہ السلام کی وجہ فضیلت ٭٭…
یہاں سے اس بات کا بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر بھی فضیلت دی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے لیکن اللہ کی جو حکمت آپ علیہ السلام کے پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہ تھا اور اس کا اجمالی بیان اوپر کی
آدم علیہ السلام کی وجہ فضیلت ٭٭…
یہاں سے اس بات کا بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر بھی فضیلت دی۔ یہ واقعہ