البقرة 2:48 واتقوا يوما لا تجزي نفس عن نفس شييا ولا يقبل منها شفاعة ولا يوخذ منها عدل ولا هم ينصرون ٤٨
وَاتَّقُوْا
یَوْمًا
لَّا
تَجْزِیْ
نَفْسٌ
عَنْ
نَّفْسٍ
شَیْـًٔا
وَّلَا
یُقْبَلُ
مِنْهَا
شَفَاعَةٌ
وَّلَا
یُؤْخَذُ
مِنْهَا
عَدْلٌ
وَّلَا
هُمْ
یُنْصَرُوْنَ
۟
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حشر کا منظر ٭٭…
نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کو کچھ فائدہ نہ دے گا جیسے فرمایا آیت «وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى» [ 35۔ فاطر: 18 ] یعنی کسی کا بوجھ کسی پر نہ پڑے گا اور فرمایا «لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [
حشر کا منظر ٭٭…
نعمتوں کو بیان کرنے کے بعد عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کو کچھ فائدہ نہ دے گا جیسے فرمایا آیت «وَلَا تَزِرُ وَازِر