البقرة 2:54 واذ قال موسى لقومه يا قوم انكم ظلمتم انفسكم باتخاذكم العجل فتوبوا الى باريكم فاقتلوا انفسكم ذالكم خير لكم عند باريكم فتاب عليكم انه هو التواب الرحيم ٥٤
وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهٖ
یٰقَوْمِ
اِنَّكُمْ
ظَلَمْتُمْ
اَنْفُسَكُمْ
بِاتِّخَاذِكُمُ
الْعِجْلَ
فَتُوْبُوْۤا
اِلٰی
بَارِىِٕكُمْ
فَاقْتُلُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ ؕ
ذٰلِكُمْ
خَیْرٌ
لَّكُمْ
عِنْدَ
بَارِىِٕكُمْ ؕ
فَتَابَ
عَلَیْكُمْ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
التَّوَّابُ
الرَّحِیْمُ
۟
جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وه توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سخت ترین سزا ٭٭…
یہاں ان کی توبہ کا طریقہ بیان ہو رہا ہے انہوں نے بچھڑے کو پوجا اور اس کی محبت نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا پھر موسیٰ علیہ السلام کے سمجھانے سے ہوش آیا اور نادم ہوئے اور اپنی گمراہی کا یقین کر کے توبہ استغفار کرنے لگے تب انہیں حکم ہوا کہ تم آپس میں قتل کرو۔ چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور
سخت ترین سزا ٭٭…
یہاں ان کی توبہ کا طریقہ بیان ہو رہا ہے انہوں نے بچھڑے کو پوجا اور اس کی محبت نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا پھر موسیٰ علیہ السلام کے سمج