البقرة 2:55 واذ قلتم يا موسى لن نومن لك حتى نرى الله جهرة فاخذتكم الصاعقة وانتم تنظرون ٥٥
وَاِذْ
قُلْتُمْ
یٰمُوْسٰی
لَنْ
نُّؤْمِنَ
لَكَ
حَتّٰی
نَرَی
اللّٰهَ
جَهْرَةً
فَاَخَذَتْكُمُ
الصّٰعِقَةُ
وَاَنْتُمْ
تَنْظُرُوْنَ
۟
اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے1 دیکھتے ہوئے بجلی گری۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ہم بھی اللہ عزوجل کو خود دیکھیں گے ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستر شخصوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق کوہ طور پر گئے اور ان لوگوں نے کلام الٰہی سنا تو موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے ہم تو جب مانیں جب اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے خود دیکھ لیں۔ اس گستاخانہ سوال پر ان پر آسمان
ہم بھی اللہ عزوجل کو خود دیکھیں گے ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام جب اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستر شخصوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق کوہ طور پر گئے اور