البقرة 2:58 واذ قلنا ادخلوا هاذه القرية فكلوا منها حيث شيتم رغدا وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة نغفر لكم خطاياكم وسنزيد المحسنين ٥٨
وَاِذْ
قُلْنَا
ادْخُلُوْا
هٰذِهِ
الْقَرْیَةَ
فَكُلُوْا
مِنْهَا
حَیْثُ
شِئْتُمْ
رَغَدًا
وَّادْخُلُوا
الْبَابَ
سُجَّدًا
وَّقُوْلُوْا
حِطَّةٌ
نَّغْفِرْ
لَكُمْ
خَطٰیٰكُمْ ؕ
وَسَنَزِیْدُ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
اور پھر یاد کرو ، جب ہم نے کہا تھا کہ یہ بستی جو تمہارے سامنے ہے ، اس میں داخل ہوجاؤ ، اس کی پیداوار سج طرح چاہو ، مزے سے کھاؤ ، مگر بستی کے درازے میں سجدہ ریز ہوتے داخل ہونا اور کہتے جانا حطۃ حطۃ ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر کریں گے اور نیکوکاروں کو مزید فضل وکرم سے نوازیں گے ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہود کی پھر حکم عدولی ٭٭…
جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورۃ المائدہ میں ذکر
یہود کی پھر حکم عدولی ٭٭…
جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان س