البقرة 2:71 قال انه يقول انها بقرة لا ذلول تثير الارض ولا تسقي الحرث مسلمة لا شية فيها قالوا الان جيت بالحق فذبحوها وما كادوا يفعلون ٧١
قَالَ
اِنَّهٗ
یَقُوْلُ
اِنَّهَا
بَقَرَةٌ
لَّا
ذَلُوْلٌ
تُثِیْرُ
الْاَرْضَ
وَلَا
تَسْقِی
الْحَرْثَ ۚ
مُسَلَّمَةٌ
لَّا
شِیَةَ
فِیْهَا ؕ
قَالُوا
الْـٰٔنَ
جِئْتَ
بِالْحَقِّ ؕ
فَذَبَحُوْهَا
وَمَا
كَادُوْا
یَفْعَلُوْنَ
۟۠
فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے کہ جس سے کوئی مشقت نہ لی جاتی ہو نہ وہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو وہ صحیح سالم یک رنگ ہونی چاہیے انہوں نے کہا اب آپ لائے ہیں ٹھیک بات تب انہوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور باربار سوال کرنے لگے۔
ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے
حجت بازی کا انجام ٭٭…
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہی اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں