البقرة 2:75 ۞ افتطمعون ان يومنوا لكم وقد كان فريق منهم يسمعون كلام الله ثم يحرفونه من بعد ما عقلوه وهم يعلمون ٧٥
اَفَتَطْمَعُوْنَ
اَنْ
یُّؤْمِنُوْا
لَكُمْ
وَقَدْ
كَانَ
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمْ
یَسْمَعُوْنَ
كَلٰمَ
اللّٰهِ
ثُمَّ
یُحَرِّفُوْنَهٗ
مِنْ
بَعْدِ
مَا
عَقَلُوْهُ
وَهُمْ
یَعْلَمُوْنَ
۟
اب کیا تم اے مسلمانوں توقع رکھتے ہو کہ وہ مانیں تمہاری بات اور ان میں ایک فرقہ تھا کہ سنتا تھا اللہ کا کلام پھر بدل ڈالتے تھے اس کو جان بوجھ کر اور وہ جانتے تھے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭…
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لیے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحر
یہودی کردار کا تجزیہ ٭٭…
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم