البقرة 2:80 وقالوا لن تمسنا النار الا اياما معدودة قل اتخذتم عند الله عهدا فلن يخلف الله عهده ام تقولون على الله ما لا تعلمون ٨٠
وَقَالُوْا
لَنْ
تَمَسَّنَا
النَّارُ
اِلَّاۤ
اَیَّامًا
مَّعْدُوْدَةً ؕ
قُلْ
اَتَّخَذْتُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
عَهْدًا
فَلَنْ
یُّخْلِفَ
اللّٰهُ
عَهْدَهٗۤ
اَمْ
تَقُوْلُوْنَ
عَلَی
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
چالیس دن کا جہنم ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا کل مدت سات ہزار سال ہے۔ ہر سال کے بدلے ایک دن ہمیں عذاب ہو گا تو صرف سات دن ہمیں جہنم میں رہنا پڑے گا اس قول کی تردید میں یہ آیتیں نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں یہ لوگ چالیس دن تک آگ میں رہنا مانتے تھے . [تفسیر اب
چالیس دن کا جہنم ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا کل مدت سات ہزار سال ہے۔ ہر سال کے بدلے ایک دن ہمیں عذاب ہو