البقرة 2:87 ولقد اتينا موسى الكتاب وقفينا من بعده بالرسل واتينا عيسى ابن مريم البينات وايدناه بروح القدس افكلما جاءكم رسول بما لا تهوى انفسكم استكبرتم ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون ٨٧
وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
مُوْسَی
الْكِتٰبَ
وَقَفَّیْنَا
مِنْ
بَعْدِهٖ
بِالرُّسُلِ ؗ
وَاٰتَیْنَا
عِیْسَی
ابْنَ
مَرْیَمَ
الْبَیِّنٰتِ
وَاَیَّدْنٰهُ
بِرُوْحِ
الْقُدُسِ ؕ
اَفَكُلَّمَا
جَآءَكُمْ
رَسُوْلٌۢ
بِمَا
لَا
تَهْوٰۤی
اَنْفُسُكُمُ
اسْتَكْبَرْتُمْ ۚ
فَفَرِیْقًا
كَذَّبْتُمْ ؗ
وَفَرِیْقًا
تَقْتُلُوْنَ
۟
اور ہم نے موسی کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روحِ پاک سے اس کی تائید کی تو جب بھی کوئی رسول تمھارے پاس وہ چیز لے کر آیا جس کو تمھارا دل نہیں چاہتا تھا تو تم نے تکبر کیا پھر ایک جماعت کوجھٹلایا اور ایک جماعت کو مار ڈالا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خود پرست اسرائیلی ٭٭…
بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی شریعت آنے والے انبیاء کی بھی مخالفت کی چنانچہ فرمایا «اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ» [ 5۔ المائدہ: 44 ] یعنی ہم نے تو
خود پرست اسرائیلی ٭٭…
بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی