البقرة 2:88 وقالوا قلوبنا غلف بل لعنهم الله بكفرهم فقليلا ما يومنون ٨٨
وَقَالُوْا
قُلُوْبُنَا
غُلْفٌ ؕ
بَلْ
لَّعَنَهُمُ
اللّٰهُ
بِكُفْرِهِمْ
فَقَلِیْلًا
مَّا
یُؤْمِنُوْنَ
۟
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بند ہیں بلکہ (حقیقت میں تو) ان پر لعنت ہوچکی ہے اللہ کی طرف سے ان کے کفر کی وجہ سے پس اب کم ہی (ہوں گے ان میں سے جو) ایمان لائیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غلف کے معنی ٭٭…
یہودیوں کا ایک قول یہ بھی تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی یہ علم سے بھرپور ہیں اب ہمیں نئے علم کی کوئی ضرورت نہیں۔ [تفسیر قرطبی:25/2] اس لیے جواب ملا کہ غلاف نہیں بلکہ لعنت الہیہ کی مہر لگ گئی ہے ایمان نصیب ہی نہیں ہوتا خلف کو خلف بھی پڑھا گیا ہے یعنی یہ علم کے برتن ہیں اور جگہ ق
غلف کے معنی ٭٭…
یہودیوں کا ایک قول یہ بھی تھا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی یہ علم سے بھرپور ہیں اب ہمیں نئے علم کی کوئی ضرورت نہیں۔ [تفسیر قرطبی:25/2