البقرة 2:89 ولما جاءهم كتاب من عند الله مصدق لما معهم وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به فلعنة الله على الكافرين ٨٩
وَلَمَّا
جَآءَهُمْ
كِتٰبٌ
مِّنْ
عِنْدِ
اللّٰهِ
مُصَدِّقٌ
لِّمَا
مَعَهُمْ ۙ
وَكَانُوْا
مِنْ
قَبْلُ
یَسْتَفْتِحُوْنَ
عَلَی
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا ۖۚ
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
مَّا
عَرَفُوْا
كَفَرُوْا
بِهٖ ؗ
فَلَعْنَةُ
اللّٰهِ
عَلَی
الْكٰفِرِیْنَ
۟
اور جب پہنچی انکے پاس کتاب اللہ کی طرف سے جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو انکے پاس ہے اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر پھر جب پہنچا ان کو جسکو پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہو گئے سو لعنت ہے اللہ کی منکروں پر 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انکار کا سبب ٭٭…
جب کبھی یہودیوں اور عرب کے مشرکین کے درمیان لڑائی ہوتی تو یہود کہا کرتے تھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب لے کر اللہ عزوجل کے ایک عظیم الشان پیغمبر تشریف لانے والے ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر تمہیں ایسا قتل و غارت کریں گے کہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے
انکار کا سبب ٭٭…
جب کبھی یہودیوں اور عرب کے مشرکین کے درمیان لڑائی ہوتی تو یہود کہا کرتے تھے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب لے کر اللہ عزوجل کے ایک ع