البقرة 2:97 قل من كان عدوا لجبريل فانه نزله على قلبك باذن الله مصدقا لما بين يديه وهدى وبشرى للمومنين ٩٧
قُلْ
مَنْ
كَانَ
عَدُوًّا
لِّجِبْرِیْلَ
فَاِنَّهٗ
نَزَّلَهٗ
عَلٰی
قَلْبِكَ
بِاِذْنِ
اللّٰهِ
مُصَدِّقًا
لِّمَا
بَیْنَ
یَدَیْهِ
وَهُدًی
وَّبُشْرٰی
لِلْمُؤْمِنِیْنَ
۟
تو کہدے جو کوئی ہووے دشمن جبریل کا سو اس نے تو اتارا ہے یہ کلام تیرے دل پر اللہ کے حکم سے کہ سچا بتانے والا ہے اس کلام کو جو اسکے پہلے ہے اور راہ دکھاتا ہے اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خصومت جبرائیل علیہ السلام موجب کفر و عصیان ٭٭…
امام جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن اور میکائیل علیہ السلام کو اپنا دوست بتایا تھا اس وقت ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:377/2] لیکن بعض کہتے
خصومت جبرائیل علیہ السلام موجب کفر و عصیان ٭٭…
امام جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ جب یہودیوں نے جبرائیل علیہ الس