الفجر 89:15 فاما الانسان اذا ما ابتلاه ربه فاكرمه ونعمه فيقول ربي اكرمن ١٥
فَاَمَّا
الْاِنْسَانُ
اِذَا
مَا
ابْتَلٰىهُ
رَبُّهٗ
فَاَكْرَمَهٗ
وَنَعَّمَهٗ ۙ۬
فَیَقُوْلُ
رَبِّیْۤ
اَكْرَمَنِ
۟ؕ
انسان (کا یہ حال ہے کہ) جب اسے اس کا رب آزماتا ہے اور عزت ونعمت دیتا ہے تو وه کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے «أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ» * «نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا ي
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو ٭٭…
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلک