الفتح 48:11 سيقول لك المخلفون من الاعراب شغلتنا اموالنا واهلونا فاستغفر لنا يقولون بالسنتهم ما ليس في قلوبهم قل فمن يملك لكم من الله شييا ان اراد بكم ضرا او اراد بكم نفعا بل كان الله بما تعملون خبيرا ١١
سَیَقُوْلُ
لَكَ
الْمُخَلَّفُوْنَ
مِنَ
الْاَعْرَابِ
شَغَلَتْنَاۤ
اَمْوَالُنَا
وَاَهْلُوْنَا
فَاسْتَغْفِرْ
لَنَا ۚ
یَقُوْلُوْنَ
بِاَلْسِنَتِهِمْ
مَّا
لَیْسَ
فِیْ
قُلُوْبِهِمْ ؕ
قُلْ
فَمَنْ
یَّمْلِكُ
لَكُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
شَیْـًٔا
اِنْ
اَرَادَ
بِكُمْ
ضَرًّا
اَوْ
اَرَادَ
بِكُمْ
نَفْعًا ؕ
بَلْ
كَانَ
اللّٰهُ
بِمَا
تَعْمَلُوْنَ
خَبِیْرًا
۟
عنقریب آپ ﷺ سے کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے رہ جانے والے تھے دیہاتیوں میں سے ہمیں مشغول رکھا ہمارے اموال اور اہل و عیال (کی دیکھ بھال) نے چناچہ آپ ہمارے لیے استغفار کیجیے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ کون ہے جو کچھ اختیار رکھتا ہو تمہارے بارے میں اللہ کی طرف سے کچھ بھی اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے ؟ } بلکہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭…
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے تھے کہ کفر کی زبردست طاقت ہمیں چکنا چور کر دے گی اور جو اتنی بڑی جماعت سے ٹکر لینے گئے ہیں یہ تباہ ہو جائیں گے، بال بچوں کو ترس جائیں گے اور وہیں کاٹ
مجاہدین کی کامیاب واپسی ٭٭…
جو اعراب لوگ جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر موت کے ڈر کے مارے گھر سے نہ نکلے تھے اور جانتے