الفتح 48:20 وعدكم الله مغانم كثيرة تاخذونها فعجل لكم هاذه وكف ايدي الناس عنكم ولتكون اية للمومنين ويهديكم صراطا مستقيما ٢٠
وَعَدَكُمُ
اللّٰهُ
مَغَانِمَ
كَثِیْرَةً
تَاْخُذُوْنَهَا
فَعَجَّلَ
لَكُمْ
هٰذِهٖ
وَكَفَّ
اَیْدِیَ
النَّاسِ
عَنْكُمْ ۚ
وَلِتَكُوْنَ
اٰیَةً
لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
وَیَهْدِیَكُمْ
صِرَاطًا
مُّسْتَقِیْمًا
۟ۙ
وعدہ کیا ہے تم سے اللہ نے بہت غنیمتوں کا کہ تم اُن کو لو گے سو جلدی پہنچا دی تمکو یہ غنیمت 1 اور روک دیا لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے 2 اور تاکہ ایک نمونہ ہو قدرت کا مسلمانوں کے واسطے 3 اور چلائے تم کو سیدھی راہ 4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭…
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:351/11]
اس اللہ کا ایک احسان یہ بھی ہے کہ کفار کے بدارادوں کو اس نے پورا نہ ہونے دیا، نہ مکے کے کافروں کے، نہ ان مناف
کفار کے بد ارادے ناکام ہوئے ٭٭…
ان بہت سی غنیمتوں سے مراد آپ کے زمانے اور بعد کی سب غنیمتیں ہیں جلدی کی غنیمت سے مراد خیبر کی غنیمت ہے اور حدیبیہ کی صلح