الفتح 48:26 اذ جعل الذين كفروا في قلوبهم الحمية حمية الجاهلية فانزل الله سكينته على رسوله وعلى المومنين والزمهم كلمة التقوى وكانوا احق بها واهلها وكان الله بكل شيء عليما ٢٦
اِذْ
جَعَلَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
فِیْ
قُلُوْبِهِمُ
الْحَمِیَّةَ
حَمِیَّةَ
الْجَاهِلِیَّةِ
فَاَنْزَلَ
اللّٰهُ
سَكِیْنَتَهٗ
عَلٰی
رَسُوْلِهٖ
وَعَلَی
الْمُؤْمِنِیْنَ
وَاَلْزَمَهُمْ
كَلِمَةَ
التَّقْوٰی
وَكَانُوْۤا
اَحَقَّ
بِهَا
وَاَهْلَهَا ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
بِكُلِّ
شَیْءٍ
عَلِیْمًا
۟۠
جب رکھی منکروں نے اپنے دلوں میں کد نادانی کی ضد پھر اتارا اللہ نے اپنی طرف کا اطمینان اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر 1 اور قائم رکھا انکو ادب کی بات پر اور وہی تھے اسکے لائق اور اس کام کے اور ہے اللہ ہر چیز سے خبردار 2
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے انکار کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنے نبی اور مومنوں کے دل کھول د
باب…
پھر فرماتا ہے جبکہ یہ کافر اپنے دلوں میں غیرت و حمیت جاہلیت کو جما چکے تھے صلح نامہ میں آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے سے ا