الفتح 48:5 ليدخل المومنين والمومنات جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ويكفر عنهم سيياتهم وكان ذالك عند الله فوزا عظيما ٥
لِّیُدْخِلَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
وَالْمُؤْمِنٰتِ
جَنّٰتٍ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهَا
الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَا
وَیُكَفِّرَ
عَنْهُمْ
سَیِّاٰتِهِمْ ؕ
وَكَانَ
ذٰلِكَ
عِنْدَ
اللّٰهِ
فَوْزًا
عَظِیْمًا
۟ۙ
تا کہ وہ داخل کرے اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور دور کر دے ان سے ان کی برائیوں کو اور یہی ہے اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اطمینان و رحمت ٭٭…
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استد
اطمینان و رحمت ٭٭…
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول