الفتح 48:6 ويعذب المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات الظانين بالله ظن السوء عليهم دايرة السوء وغضب الله عليهم ولعنهم واعد لهم جهنم وساءت مصيرا ٦
وَّیُعَذِّبَ
الْمُنٰفِقِیْنَ
وَالْمُنٰفِقٰتِ
وَالْمُشْرِكِیْنَ
وَالْمُشْرِكٰتِ
الظَّآنِّیْنَ
بِاللّٰهِ
ظَنَّ
السَّوْءِ ؕ
عَلَیْهِمْ
دَآىِٕرَةُ
السَّوْءِ ۚ
وَغَضِبَ
اللّٰهُ
عَلَیْهِمْ
وَلَعَنَهُمْ
وَاَعَدَّ
لَهُمْ
جَهَنَّمَ ؕ
وَسَآءَتْ
مَصِیْرًا
۟
اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب دے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں1 ، (دراصل) انہیں پر برائی کا پھیرا ہے2، اللہ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وه (بہت) بری لوٹنے کی جگہ ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اطمینان و رحمت ٭٭…
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے، اس سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کرام نے استد
اطمینان و رحمت ٭٭…
«سکینہ» کے معنی ہیں اطمینان، رحمت اور وقار کے۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کی اور اس کے رسول