الفرقان 25:3 واتخذوا من دونه الهة لا يخلقون شييا وهم يخلقون ولا يملكون لانفسهم ضرا ولا نفعا ولا يملكون موتا ولا حياة ولا نشورا ٣
وَاتَّخَذُوْا
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اٰلِهَةً
لَّا
یَخْلُقُوْنَ
شَیْـًٔا
وَّهُمْ
یُخْلَقُوْنَ
وَلَا
یَمْلِكُوْنَ
لِاَنْفُسِهِمْ
ضَرًّا
وَّلَا
نَفْعًا
وَّلَا
یَمْلِكُوْنَ
مَوْتًا
وَّلَا
حَیٰوةً
وَّلَا
نُشُوْرًا
۟
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکوں کی جہالت ٭٭…
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، مختار بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے بلکہ وہ خود اللہ کے بنائے ہوئے اور اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی کسی نفع نقصان کے پہنچانے کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسرے کا بھلا کریں یا د
مشرکوں کی جہالت ٭٭…
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ خالق، مالک، مختار بادشاہ کو چھوڑ کر ان کی عبادتیں کرتے ہیں جو ایک مچھر کا پر بھی نہیں بنا سکتے