الفرقان 25:4 وقال الذين كفروا ان هاذا الا افك افتراه واعانه عليه قوم اخرون فقد جاءوا ظلما وزورا ٤
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اِنْ
هٰذَاۤ
اِلَّاۤ
اِفْكُ
فْتَرٰىهُ
وَاَعَانَهٗ
عَلَیْهِ
قَوْمٌ
اٰخَرُوْنَ ۛۚ
فَقَدْ
جَآءُوْ
ظُلْمًا
وَّزُوْرًا
۟ۚۛ
اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی1 ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ﻇلم اور سرتاسر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
خود فریب مشرک ٭٭…
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے
خود فریب مشرک ٭٭…
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ