الفرقان 25:59 الذي خلق السماوات والارض وما بينهما في ستة ايام ثم استوى على العرش الرحمان فاسال به خبيرا ٥٩
لَّذِیْ
خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَا
فِیْ
سِتَّةِ
اَیَّامٍ
ثُمَّ
اسْتَوٰی
عَلَی
الْعَرْشِ ۛۚ
اَلرَّحْمٰنُ
فَسْـَٔلْ
بِهٖ
خَبِیْرًا
۟
وہجس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ” عرش “ پر جلوہ فرما ہوا۔ رحمٰن ہے وہ اس سے پوچھو کہ وہ جاننے الا ہے۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آبائی گمراہی ٭٭…
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں کی دیکھا دیکھی، نفسانی خواہشات سے ان کی محبت و عظمت اپنے دل میں جمائے ہوئے ہیں اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور مخالفت رکھتے ہیں۔ شی
آبائی گمراہی ٭٭…
مشرکوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ وہ بت پرستی کرتے ہیں، بلادلیل و حجت ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ نفع کے مالک، نہ نقصان کے۔ صرف باپ دادوں