الفرقان 25:63 وعباد الرحمان الذين يمشون على الارض هونا واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما ٦٣
وَعِبَادُ
الرَّحْمٰنِ
الَّذِیْنَ
یَمْشُوْنَ
عَلَی
الْاَرْضِ
هَوْنًا
وَّاِذَا
خَاطَبَهُمُ
الْجٰهِلُوْنَ
قَالُوْا
سَلٰمًا
۟
رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مومنوں کا کردار ٭٭…
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تکبر، تجبر، فساد اور ظلم و ستم نہیں کرتے۔
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور
مومنوں کا کردار ٭٭…
اللہ کے مومن بندوں کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ زمین پر سکون و وقار کے ساتھ، تواضع، عاجزی، مسکینی اور فروتنی سے چلتے پھرتے ہیں۔ تک